Home » Urdu Blog » غلبۂ اسلام کیلئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی کی دینی،فکری واصلاحی کاوشات کی عصری معنویت

غلبۂ اسلام کیلئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی کی دینی،فکری واصلاحی کاوشات کی عصری معنویت

یومِ ولادتِ اعلیٰ حضرت پر خصوصی تحریر

غلام مصطفٰی رضوی،
نوری مشن مالیگاؤں

    اللہ کریم کی حکمت ہے کہ ہر شخصیت کو زمانی ضروریات وتقاضوں کے مطابق نوازا ۔عہدِ غزالی و عہدِ غوثیت میں فلاسفہ کا زورتھا، اس لیے انھیں فلسفۂ خام کے مقابل اسلامی حکمت ودانش سے پُر علم عطا کیا ۔عہدِ غزالی میں نظریاتی برائیوں اور شعور سے وراء ُ الوریٰ عقائد کے انکار کی مادی فکر کے مقابل فلسفۂ اسلامی کی بلندیوں سے نواز کر اصلاحِ عقیدہ کا ساماں کیا گیا۔ عہدِ غوثیت میں طبِ یونانی کی تدقیق نے طبی ایجادات میں کمال دکھایا، علم وتحقیق میں خدائی انعامات سے نوازے جانے کے باجودتکبر نے انسان کو دھریت کا شکار بنایا ایسے میں توحید کی عظمتوں کو راسخ کرنے کے لیے غوث اعظم کو بے پناہ کرامتوں کا ادراک بخشاگیا۔ مجدد الف ثانی کے دور میں عظمت توحید پر حملہ تھا ،انھیں توحید کی ناقابلِ تردید سچائیوں کے اظہار کے لیے عقلی و روحانی علوم سے آراستہ کیا گیا۔ یوں ہی عہدِ استعمار میں ناموسِ رسالت پر چہار جانب سے حملہ تھا، آریاؤں، انگریز واُن کے ہم نواؤں کی یورش نے ناموسِ رسالت پر شب خوں مارا، ایسے میں مشیت نے استدلال کی ناقابلِ تردید صلاحیتوں سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کونوازا، اور محبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درس سے آپ نے اسلام کی عظیم خدمت انجام دی۔ خلافِ شریعت راہوں کا خاتمہ کیا، منکرات کے مقابل راہِ سُنّت کواجاگر کیا۔ بے شرع پیروں کے خلاف آپ نے فتاوے صادر فرمائے۔

    امام احمد رضا کے عہد میں سائنس و فلسفہ کا بڑا زور تھا، انگریز نے ایجادات و سائنسی ترقیات کے ذریعے یہ گمان کر لیا تھا کہ اب اسلامی عقائد سائنس کے سامنے زیر اور سِپر ہوجائیں گے، اور اگلی صدیاں سائنس کے غلبے کی ہوں گی۔ ایسے میں اسلامی عقائد کے تحفظ کے لیے آپ نے سائنس و فلسفہ کے مقابل قرآنی حقائق پیش کیے اور ’’سائنسی نظریات کو قرآن کی کسوٹی پر پرکھنے‘‘ کی فکر دے کر فکری ومادی حملوں سے اسلام کا تحفظ کیا۔ اس ضمن میں آپ نے اسلامی فکر دی اور قرآن وسائنس سے نصرانی سائنسی افکار کی تردید میں علم و فن کے جوہر دکھائے ہیں ان کے جلوے :فوزِ مبین در ردِ حرکتِ زمین؛نزولِ آیاتِ فرقان بسکونِ زمین وآسمان؛ الکلمۃالملہمۃ؛ کشف العلۃ؛ معین مبین بہرِ دورِ شمس وسکونِ زمین‘‘ میں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں، اس میں علمِ لدنی کے وہ جلوے دکھائے ہیں جن کے مطالعہ سے علم کی بلندی اور ایمان کی تازگی حاصل ہوتی ہے۔

فکرِ اسلامی کی پاسبانی:

[۱]امام احمد رضا نے فکرونظر کو قرآن وسُنّت کی طرف موڑ دیا، جس پر آپ کی ایک ہزار کے قریب کتابیں شاہد ہیں۔

[۲] آپ کے فتاویٰ میں اسلاف کی عظمتیں موجود ہیں،مختلف فیہ مسائل میں استدلال کی قوت سے ’’قولِ فیصل‘‘ کا صدور اور اختلاف کو رفع کردینا وہ خوبی ہے جو فقیہانہ شان اجاگر کرتی ہے۔ چشم کشا کو’’فتاویٰ رضویہ‘‘ (جدید۳۰؍مجلدات ؛قدیم۱۲؍مجلدات) کافی ہے۔جس کی گہرائی وگیرائی کو اقبالؔ، کوثرؔنیازی اور نزہۃالخواطر میں علی میاں ندویؔ نے خراج تحسین پیش کیاہے۔

[۳]معاشرتی برائیوں کے خاتمہ کے لیے جو کتابیں لکھیں وہ اصلاحی وتجدیدی شان ظاہر کرتی ہیں۔ایسی کتابیں سو سے زائد ہیں۔جس پر ’’امام احمد رضا اور ردبدعات‘‘ازیٰسٓ اختر مصباحی شاہد ہے۔

[۴]قرآن مقدس کے بعد کثیر احادیث سے استدلال وہ خوبی ہے جو بے مثل ہے، عموماً معاصرین کے یہاں کسی موضوع پر دلیل میں چند احادیث پر ہی اکتفا ملتا ہے، آپ ایک موضوع پر درجنوں اور کہیں تو سیکڑوں احادیث سے مع روایت و درایت استنباط کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آپ کی محدثانہ بصیرت پر ’’جامع الاحادیث‘‘ دس جلدوں میں مولانا حنیف خان رضوی نے مرتب کر کے شائع کر دی۔نیز مولانا عیسیٰ رضوی کی متعدد جلدوں میں تحریر شائع ہو چکی ہے۔

[۵]خانقاہوں میں غیر شرعی رسوم کے خلاف قلمی کاوش اور دائرۂ شرع میں ہونے والے عوامل کی حمایت میں مدلل فتاویٰ بے نظیر ہیں۔

[۶]شان یہ ہے کہ خدماتِ دینیہ کے اعتراف میں موافق ومخالف سبھی رطب اللسان ہیں۔جس پر درجنوں کتابیں حیطۂ تحریر میں آچکی ہیں۔

[۷]معاصر علمائے عرب نے زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا، جن میں ائمۂ حرمین شریفین، مکہ معظمہ و مدینۂ منورہ کے قد آور علما واساتذہ و محدثین نے نوع بہ نوع القاب سے نوازا۔جس کی تفصیل ’’امام احمد رضا اور عالم اسلام‘‘ازپروفیسر محمد مسعود نقشبندی میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

[۸] تحقیق و تدقیق کے رُخ سے گزری کئی صدیوں میں واحد شخصیت ہے؛ جس پر عالمی جامعات ویونیورسٹیوں میں اس قدر سرعت کے ساتھ Ph.D., M.Phil., M.Ed.وغیرہ کے لیے مقالات و Thesisلکھے گئے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود نقشبندی نے اس رخ سے مقالہ جات لکھے ہیں۔

[۹]شام و مصر، یمن وعراق کی درس گاہیں آپ کی علمی تحقیقات کو اجاگر کر رہی ہیں۔ اربابِ علم ودانش آپ کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔عربی زبان میں درجنوں کتابیں شائع ہیں۔

[۱۰]درجنوں نصابی کتابوں میں آپ کی نگارشات کی شمولیت مقبولیت کا اظہار ہی تو ہے۔ نیز عدالتوں اور کورٹوں میں شرعی فیصلوں کے ضمن میں آپ کے معرکہ آرا فتاویٰ سے استفادہ مقبولیت کا نشاں ہے۔

اسلامی اقدار کا محافظ:

[۱]امام احمد رضا نے فرقہ پرستوں کے فتنہ و حرب سے اس وقت مسلمانوں کو باخبر کیا جب کہ اس قدر نقصان نہیں ہوا تھا، اس دور میں گاندھی کے سائے میں بڑے بڑے اصحابِ جبہ پناہ گزیں تھے، کاش مشرکوں سے متعلق مسلمان آپ کی آواز پر بیدار ہو لیتے تو ہزاروں فسادات جھیلنے نہ پڑتے اور مسلمانوں کی حق تلفی کا تسلسل بھی شاید ظہور میں نہ آتا۔

[۲] تحریکِ ترکِ موالات نے مسلمان اساتذہ کی جائز ملازمتیں چھُڑائیں، طلبا کو تعلیم سے کاٹ دیا، مسلمان جاہل اور مشرک تعلیم یافتہ ہوئے، مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ اور مدرسہ عالیہ کلکتہ تباہ ہوئے اور ہندویونی ورسٹی بنارس پھلی پھولی، یہیں سے مسلمان تعلیمی میدان میں ایسے پیچھے ہوئے کہ اب تک سر نہ اٹھا سکے، امام احمد رضا نے شرعی بنیادوں پر ترکِ موالات کی مخالفت کی تھی، آپ کی مومنانہ فراست مستقبل کے خدشات دیکھ رہی تھی، مسلمان آپ کے فتاویٰ پر عمل کر لیتے تو تعلیمی پستی نہ آتی اور سچر کمیٹی کی کوئی رپورٹ منفی ری مارک نہیں دیتی۔

[۳]مغربی مصنوعات کا بائی کاٹ آج ہورہا ہے، ۱۹۰۱۲ء میں امام احمد رضا نے ’’تدبیرِ فلاح‘‘ میں مسلم پروڈکٹ کی فکر دی تھی جس پر عمل کیا جاتا تو مسلم معیشت Strongہوتی۔اور مسلمان یہود ونصاریٰ کے دستِ نگر نہیں ہوتے۔

[۴]۱۹۰۱۲ء میں بِلاسودی بینکاری کا جو نظریہ آپ نے دیا تھا وہ مسلم معیشت کے عروج کا اشاریہ تھا۔

[۵]آپ نے اسلامی تمدن کی بقا کے لیے انگریزی تمدن سے ہر رُخ سے نفرت کا درس دیا اور نصاریٰ کی تذلیل کی۔

[۶]مسلم تشخص کے لیے اسلامی شعائر پر عمل کی ترغیب دی۔مشرکین ونصاریٰ کے مراسم کی سخت مذمت کی۔جن پرآپ کی متعدد کتابیں ہیں۔مسلمانوں کو مرتد بنانے والی’’شدھی کرن‘‘ کے مقابل جماعت رضائے مصطفٰی قائم کر کے لاکھوں افرادکے ایمان کی حفاظت کی۔

[۷]مسلمانوں میں عملی اتحاد کے لیے محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا درس پیش کیا۔

[۸]ادبی نقطۂ نظر سے ذہنی عیاشی کے عہد میں ’’نعت‘‘ جیسی پاکیزہ صنف میں شاعری کی اور مسلم امہ کومدینہ امینہ سے مربوط کر کے یہودونصاریٰ کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔آپ کا قصیدۂ سلامیہ ’’مصطفٰی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ عالمِ اسلام کااردو میں قومی ترانہ بن چکا ہے۔

[۹]مادی ہنگام کے درمیان اسلامی روحانی نظام کی بقا کے لیے آپ نے قادری سلسلہ میں بیعت وارشاد کے ذریعے لاکھوں افراد کو توبہ کرائی، آپ کا سلسلہ عالم اسلام میں بڑا پھیلا ہوا ہے،جس کے موجودہ جانشین تاج الشریعہ علامہ اختر رضاخان قادری ازہری ونیز وابستہ کثیر ارادت مند خلفا و خلفا کے خلفاہیں۔

[۱۰]آپ کا ترجمہ قرآن کنزالایمان روحِ قرآن سے قریب، مؤدب، لسانی خصوصیات کا حامل، جامع، اردوکاسنگھار،حلاوتِ ایمانی کا مظہر اور مقبولِ عام ہے۔جس کی اشاعت لاکھوں میں ہوتی ہے۔دس زبانوں میں اس کے ترجمے چھپ چکے۔

    ایسے جلیل القدر بندۂ مومن کی یاد تازہ کرنا در حقیقت مسلمانوں کے شان دارماضی کو حال سے جوڑنے، اور وقارِگم گشتہ کی بحالی کا باعث ہوگا، امام احمد رضاحوصلہ افزا تاریخ کا استعارہ ہیں۔جن کی نگارشات کا مطالعہ ’’ہر لحظہ نیا طور، نئی برقِ تجلی‘‘ کا لطف دیتا ہے۔

٭٭٭
======================= 7جولائی کو حج ٹریننگ سنٹر مالیگاؤں میں ہونے والے عظیم الشان پروگرام میں خلیفۂ تاج الشریعہ حضرت سیدعبدالقادر جیلانی (ممبئی) اور مفتی سید محمد رضوان شافعی رفاعی (کوکن) کی تشریف آوری ہوگی۔ اس موقع پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی فکری معنویت اور مسلم امہ کے لیے رہنمایانہ نقوش پر علمی انداز میں روشنی ڈالی جائے گی۔ مع احباب شرکت کیجئے۔ اسی دن شام میں بعد نمازِ عصر رضا لائبریری (مقابل نیا بس اسٹینڈ) کی تجدید نو کا سنگِ بنیاد ساداتِ کرام کے ذریعے رکھا جائے گا۔ عامۃالمسلمین سے دونوں پروگراموں میں شرکت کی گزارش نوری مشن نے کی ہے۔
=======================

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *